ماہواری سے متعلق غلط العام وہمی باتیں

ماہواری سے متعلق غلط العام وہمی باتیں

ماہواری دنیا کی ہر خاتون میں لگ بھگ 40 سال تک رہتی ہے مگر پھر بھی اس موضوع کو شرم اور جھجک کی وجہ سے عام طور پر بیان کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں ذیادہ گھرانوں میں اس موضوع پر کھل کر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے لہذا بچیاں اس سے متعلق مسائل کو محض ماں سے ہی زیر بحث لا سکتی ہیں۔ 

لہذا اس بوکھلاہٹ کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں ماہواری سے متعلق بہت سے وہم اور غلط آرا پائی جاتی ہیں جنہیں ہم آج دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ 

پہلی غلط رائے: 

ماہواری آنا اور اس سے متعلق بات چیت ایک شرمناک فعل ہے اور اس کے بارے میں بات کرنا انتہائی غلط بات ہے۔ دنیا کی لاکھوں خواتین ہر ماہ اس چیز سے گزرتی ہیں مگر پھر بھی اس بات کو ایک غلط چیز سمجھ کر ہمیشہ چھپایا جاتا ہے۔ اس رویے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں مرد حضرات ماہواری  سے متعلق بالکل لا علم ہیں اور کبھی ہنگامی صورتحال میں وہ اپنی بیٹیوں یا بیویوں کی مدد نہیں کر پاتے۔ 

ہمارے ہاں کافی سکولوں میں اب اس سے متعلق آگاہی کے سیشن منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں بچیوں کو ماہواری سے متعلق معلومات بتائی جاتی ہیں مگر اس طرح کے سیشن ایک مخصوص عمر کے لڑکوں کیلئے بھی منعقد کروانی چاہییں تاکہ ان میں بھی اس چیز کا شعور پیدا ہو سکے۔ 

 

دوسری وہمی بات: پین کلرز کھانے سے ماہواری رک جاتی ہے! 

ایک اور غلط العام بات جو کہ ماہواری سے متعلق عوام میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس دوران درد کو کم کرنے کیلئے لی جانے والی پین کلرز سے ماہواری رک جاتی ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات تحقیق سے ثابت شدہ نہیں۔ گو ان کے استعمال سے ماہواری کی مقدار تھوڑی بہت کم ہو جاتی ہے مگر اس سے مکمل ختم ہونا ممکن نہیں۔ اس مقصد کیلئے پین کلرز کی بہت ذیادہ مقدار چاہیئے ہوتی ہے جو کہ عام طور پر ادویات میں نہیں پائی جاتی۔ 

تیسری غلط بات: ماہواری کے دوران ورزش کرنا بالکل منع ہے! 

ماہواری شروع ہونے کے پہلے دن ورزش کا دل نہ چاہتا ایک عام بات ہے مگر پورا ہفتہ ورزش سے گریز قطعا منع نہیں ہے۔ حتی کہ ورزش کے ذریعے ماہواری کے دوران ہونے والے درد میں بھی کمی آ جاتی ہے اور اس سے انسان کا موڈ بھی بہتر ہوتا ہے۔ 

چوتھی غلط بات: ماہواری ہمیشہ پورا ہفتہ رہنی چاہیئے! 

اوسطا ماہواری 5 دن تک رہتی ہے مگر اس بات کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ 4 دن یا 7 دن کی ماہواری کوئی بیماری ہے۔ ہر خاتون اور اس کی ماہواری کی ترتیب مختلف ہے۔ لہذا ماہواری کی ترتیب میں تھوڑا بہت اتار چڑھاو بالکل نارمل ہے اور ذیادہ تر خواتین میں دو دن کا اوپر نیچے ہو جانا بالکل عام بات ہے۔ 

پانچویں غلط بات: ماہواری کے دوران حمل ممکن نہیں!

اس غلط العام رائے کی وجہ سے عوام میں بہت سے حمل بلا جواز ٹھہر جاتے ہیں۔ گو کہ ماہواری کے دوران عورت کے حاملہ کے امکانات کافی کم ہوتے ہیں مگر یہ امکانات کبھی بھی ختم نہیں ہوتے۔ بسا اوقات رحم سے آنے والے خون کی وجہ ماہواری کے بجائے کچھ اور ہو بھی ہو سکتی ہے مگر اس بات کی بنیاد پر اس دوران خاوند سے ملاقات کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی حمل ٹھہر سکتا ہے۔

ماہواری کے دوران ملاقات کے بعد حمل ٹھہرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ملاپ کے وقت نکلنے والے سپرمز تقریبا 72 گھنٹے کے لیے زندہ رہتے ہیں اور اس وجہ سے اس دوران کسی بھی وقت عورت حاملہ ہو سکتی ہے۔ 

چھٹی غلط بات: ماہواری کے دوران عورت بہت ہی چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتی ہے۔ 

اس بات میں کسی حد تک درستگی موجود ہے مگر ہمارے معاشرے میں یہ بات اتنی مبالغہ آرائی اختیار کر چکی ہے کہ مرد حضرات سمجھنے لگے ہیں کہ ماہواری کے دوران پورا ہفتہ ہی خواتین چڑچڑے پن کا شکار رہتی ہیں اور اس دوران وہ کسی بھی اہم فیصلے کا انتخاب کرنے کی اہل نہیں ہوتی ہیں۔ 

مگر حقیقت یہ ہے کہ چند ایک خواتین ماہواری کے دوران کچھ جذباتی کشمکش کا شکار ہوتی ہیں مگر اس بات کو ہر خاتون پر مسلط کرنا ان کی ذہنی و جذباتی صحت کیلئے بالکل کارگر نہیں ہے۔ 

اس اہم موضوع کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے کسی ڈاکٹر سے مشاورت حاصل کریں۔ یہ سہولت شفا فار یو کا پلیٹ فارم آپکو گھر بیٹھے دے رہا ہے۔ ابھی ہماری سائٹ وزٹ کریں اور بہترین ڈاکٹرز سے مشاورت پائیں!

Recommended Packages

Uzair Arshad

Uzair is a medical student of the penultimate year of MBBS in Allama Iqbal Medical College, Lahore. He is always interested in making things easy that are relatively difficult. Exploration is another catchy half and reading is a cup of tea.