جگر کے امراض؛ مختلف اقسام اور علامات

جگر کے امراض؛ مختلف اقسام اور علامات

جگر ہمارے پیٹ کے دائیں جانب معدے کے اوپر واقع ایک اہم آرگن/عضو ہے۔ یہ فٹ بال کے سائز جتنا آرگن ہمارے اعضا میں سب سے بڑا ہے اور نظام انہظام اور جسم سے زہر آلود مادوں کو نکالنے میں اس کا مرکزی کردار ہے۔ امراض جگر جینیاتی بھی ہو تے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ بنا تشخیص یا علاج کے یہ امراض مہلک ثابت ہوتے ہیں۔ مندرجہ ذیل بیماریاں جگر کے عام امراض میں سے ہیں: 

ہیپاٹائٹس: 

ہیپاٹائٹس جگر کی سوزش ہے جو کہ الکوہل یا انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس کی 5 اقسام ہیں: 

۔ ہیپاٹائٹس اے:

یہ عموما گندہ اور آلودہ کھانا کھانے اور پاخانے کے راستے کی ناقص صفائی ستھرائی کی وجہ سے ہمارے منہ تک پہنچنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس بیماری پھیلانے والے وائرس کا نام ہیپاٹائٹس اے ہے۔ 

یہ جان لیوا نہیں ہوتا اور اس کی علامات خود بہ خود کچھ ماہ میں ٹھیک ہو جاتی ہیں۔ اس ہیپاٹائٹس کی ویکسین بھی موجود ہے۔

 

ہیپاٹائٹس بی: 

یہ متاثر شخص کے خون یا سیمن اور دیگر جسمانی رطوبتوں کے ذریعے بھی پھیلتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ متاثرہ ماں سے بچے میں بھی پھیل سکتا ہے اور متاثر شخص سے سیکس کے دوران بھی منتقل ہو سکتا ہے۔ 

ذیادہ تر افراد اس انفیکشن سے چند ماہ میں ری کور ہو جاتے ہیں۔

ہیپاٹائٹس سی: 

ہیپاٹائٹس سی وائرس متاثرہ شخص کے خون کے ذریعے پھیلتا ہے۔ اور یہ عموما آئی وی ڈرگز استعمال کرنے والے افراد میں استعمال شدہ سوئیوں کے ذریعے پھیلتا ہے۔ علاوہ ازیں سیکس کے دوران، پیدائش کے وقت ماں سے بچے میں بھی پھیل سکتا ہے۔ 

 

ہیپاٹائٹس ڈی: 

ہیپاٹائٹس ڈی ہیپاٹائٹس بی وائرس سے متاثرہ افراد میں ہوتا ہے اور اس وائرس کو زندہ رہنے کیلئے ہیپاٹائٹس بی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دیگر وائرسز کے مقابلے میں ذیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ 

 

ہیپاٹائٹس ای: 

ہیپاٹائٹس ای وائرس آلودہ خوراک اور پانی کے ذریعے پھیلتا ہے۔ یہ سینٹری کے ناقص نظام والے ممالک میں لوگوں کو ذیادہ متاثر کرتا ہے۔ 

ہیپاٹائٹس کی علامات: 

۔ پیٹ درد

۔ وزن میں کمی

۔ یرقان 

۔ متلی اور قے

۔ جوڑوں میں درد 

۔ پیلا پیشاب 

۔ بخار 

۔ تھکاوٹ 

 

فیٹی لیور: 

صحت مند جگر کے گرد عموما ایک فیٹ کی جھلی ہوتی ہے مگر اس مسئلے میں فیٹ کی مقدار کافی حد تک بڑھ جاتی ہے۔ اگر آپ موٹاپے کا شکار ہیں یا آپ کے پیٹ کے اردگرد فیٹ ہے یا آپ انسولین ریزسٹنس یعنی ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا ہیں تو آپ اس بیماری کا شکار ہو سکتے ہیں۔

علامات: 

۔ کمزوری اور تھکاوٹ 

۔ پیٹ درد 

۔ متلی اور قے 

۔ یرقان 

۔ پیٹ اور ٹانگوں میں سوزش 

۔ وراثتی امراض جگر 

 

ہیموکروماٹوسس: 

اس بیماری میں جسم میں آئرن کی مقدار خطرناک حد تک ذیادہ ہو جاتی ہے اور یہ ہمارے جسم کے مختلف اعضاء کو بڑی طرح متاثر کرتی ہے جس میں جگر کا کینسر یا جگر فیل ہونے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔ 

اس بیماری کی دو اقسام ہیں: 

پرائمری ہیموکروماٹوسس جینیاتی مسائل کی وجہ سے ہوتا ہے جبکہ سیکنڈری ہیموکروماٹوسس کسی اور بیماری کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ 

علامات: 

۔ تھکاوٹ 

۔ وزن میں کمی 

۔ جوڑوں میں درد 

۔ ماہواری کے مسائل 

۔ عضو تناسل میں تناو کے مسائل 

 

ولسنز ڈیزیز: 

یہ ایک جینیاتی مسئلہ ہے جس میں جسم میں کاپر کی مقدار بہت ذیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یہ عموما دماغ اور جگر کو اپنی گرفت میں لیتی ہے۔ یہ مرض ہمارے جسم میں کاپر کی منتقلی پر معین ایک پروٹین میں مسئلے کی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ 

علامات: 

 ۔ تھکاوٹ 

۔ پیٹ درد 

۔ پیٹ اور ٹانگوں میں سوزش 

۔ پٹھوں میں کھچاوء 

۔ پٹھوں کی حرکات میں بے ترتیبی 

 

کسی میڈیکل ڈاکٹر سے مشورہ کریں اور آج ہی اپنی بیماری کی تشخیص کروائیں۔ شفا فار یو یہ سہولت گھر بیٹھے آن لائن بھی فراہم کر رہا ہے۔ آج ہی شفا فار یو سائٹ سے اپنی اپوائنٹمنٹ بک کریں۔

Recommended Packages

Uzair Arshad

Uzair is a medical student of the penultimate year of MBBS in Allama Iqbal Medical College, Lahore. He is always interested in making things easy that are relatively difficult. Exploration is another catchy half and reading is a cup of tea.