ورزش سے پہلے اور بعد کے قواعد و ضوابط

ورزش سے پہلے اور بعد کے قواعد و ضوابط

Read in English

اس دو رکنی سلسلے کی لڑی کو مکمل کرتے ہوئے آج ہم لوگ اس بات پر روشنی ڈالیں گے کہ ورزش سے پہلے، ورزش کے دوران اور ورزش کے بعد میں ہمیں کیا کھانا چاہیے۔

 

ورزش سے قبل:

ورزش سے گھنٹہ آدھا گھنٹہ پہلے ایک کاربز پر مشتمل سنیک یا پروٹین سے بھرپور خوراک نوش کرنا عام طور پر تجویز کیا جاتا ہے۔ اور وہ اشیا جن میں فیٹس کی مقدار ذیادہ ہو انہیں کھانے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ان کو ہضم ہونے میں دیر لگتی ہے جو کہ ورزش کے دوران متلی اور قے کا باعث بن سکتا ہے۔ لذیذ اشیاء جو ورزش سے پہلے تناول کی جا سکتی ہیں میں کیلے، ملک شیک، دلیا، انڈے، ٹوسٹ اور گرینولا بار قابل ذکر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کا بھرپور استعمال بھی کافی فائدہ مند ہے۔ بہت سارے اتھلیٹس جو میراتھن ریس میں حصہ لے رہے ہوں یا دوسرے کھیلوں میں جانے سے قبل رات میں ایک ہائی کارب میل کھاتے ہیں جسے سپورٹس کی زبان میں کارب۔لوڈنگ کہتے ہیں۔ یہ کاربوہائیڈریٹس گلوکوز کے ذخائر کو بڑھا دیتے ہیں جو کھیل مکمل ہونے تک توانائی کا باعث بنتے ہیں۔ 

 

ورزش کے دوران:

دوران ورزش ہمارے جسم کو خوراک کی ضروت نہیں ہوتی کیونکہ پہلے سے موجود گلوکوز یہ کام بخوبی کر دیتا ہے۔ لیکن میراتھن ریس اور اس نوعیت کے دیگر مقابلوں کے دوران یہ اصول صادق نہیں آتا۔ بسا اوقات مقابلے کے دوران ہائی کارب ڈائٹ لینا لازمی ہو جاتی ہے۔ پانی ورزش کے دوران لازمی جزو ہے لیکن تھوڑا تھوڑا تحمل کے ساتھ پینا ذیادہ فائدہ مند ہے۔لیکن اگر آپ کھیل میں کچھ ذیادہ عرصہ کیلئے مشغول ہو رہے ہیں تو پانی کے بجائے نمکیات سے بھرپور سپورٹس مشروبات میں سے کسی کا انتخاب ذیادہ مفید ہے۔ 

 

ورزش کے بعد:

ورزش کرنے کے 30 منٹ بعد کوئی ہلکا پھلکا سنیک جیسا کہ گرینولا بار، سمودی یا کوئی خشک میوہ جات وغیرہ کھا لینا چاہیے۔ اس طرح استعمال شدہ نمکیات بآسانی معدے کو متاثر کیے بغیر دوبارہ سے واپس ری کور ہونے لگتے ہیں۔ لیکن بعض اتھلیٹس ورزش جیسی سرگرمی کے 1 گھنٹے کے دوران کسی قسم کے کھانے سے معدے کی خرابی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لہذا ہلکا پھلکا سا سنیک اس چیز سے بچاؤ مہیا کرتا ہے اور بعد میں ایک مکمل کھانے کو بخوبی نوش کرنے کا سامان بھی پیدا کرتا ہے۔ تند خو ورزش کے بعد پہلا کھانا کاربوہائیڈریٹس اور پروٹین سے بھرپور ہونا چاہیے۔ پروٹین ہمارے مسلز کی نشونما میں مددگار ہیں اور کاربز ہمارے گلوکوز کے ذخائر کو پورا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم ورزش کے بعد پانی نہایت اہم ہے مگر بعض اوقات دودھ کا ایک گلاس بھی پروٹین اور کاربز کا اچھا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ 

 

قصہ مختصر یہ کہ ورزش ایک صحت مند زندگی کا ایک اہم جزو ہے لیکن اپنے جسم کی ورزش کے حوالے سے ضروریات کو سمجھنا بھی اہم ہے۔ ورزش ہمیں اسی صورت میں بھرپور فائدہ پہنچاتی ہے اگر ہمارا جسم توانائی سے بھرپور ہو۔ اوپر دی گئی تدابیر کو اپنے مطابق ترتیب دیں۔ مثال کے طور پر بعض لوگ ورزش سے دو تین گھنٹے پہلے کھا کر ہی اس کو ہضم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ اگر آپ کے ذہن میں نیوٹریشن کے لحاظ دے کوئی سوال ہے تو شفا فار یو کے پلیٹ فارم سے منسلک ماہرین غذائی امور سے مشورہ کرنے میں تاخیر نہ کریں۔

Recommended Packages

Uzair Arshad

Uzair is a medical student of the penultimate year of MBBS in Allama Iqbal Medical College, Lahore. He is always interested in making things easy that are relatively difficult. Exploration is another catchy half and reading is a cup of tea.